کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام میں جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے بارے میں کیا خوف تھا
حدیث نمبر: 2099
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الإِنْسَانَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ " .
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم جب کسی شخص کو صبح یا عشاء کی نماز میں غیر موجود پاتے تھے، تو اس کے بارے میں بدگمانی اختیار کرتے تھے۔