کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ دونوں نمازیں (عشاء اور صبح) منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری ہیں
حدیث نمبر: 2098
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاةُ الْعِشَاءِ وَصَلاةُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَتُقَامَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حِزَمُ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” منافقین کے لیے سب سے زیادہ بوجھل عشاء اور فجر کی نمازیں ہیں اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے، ان دونوں میں کتنا اجر اور ثواب ہے، تو تم ان دونوں میں ضرور شریک ہوں اگرچہ انہیں گھسٹ کر چل کر آنا پڑے۔ میں نے یہ ارادہ کیا، میں نماز کے بارے میں حکم دوں کسی شخص کو ہدایت کروں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں اپنے ساتھ کچھ لوگ لے کر جاؤں جن کے ہمراہ لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے اور ان لوگوں سمیت ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2098
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (486): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير سلم بن جنادة، فلم يخرجا له ولا واحد منهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2095»