کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے بارے میں ہمارے بیان کردہ عمل کا ارادہ کیا، ان کی وجہ عشاء کی جماعت میں عدم شرکت نہیں تھی
حدیث نمبر: 2097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلا يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَخَلَّفُونَ عَنْهَا فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ " يَعْنِي الصَّلاتَيْنِ الْعِشَاءَ وَالْغَدَاةَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں نے یہ ارادہ کیا، میں کسی شخص کو یہ ہدایت کروں، وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز باجماعت) میں شریک نہیں ہوئے۔ میں ان لوگوں کو آگ لگا دوں۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی جو عشاء اور صبح کی نمازوں میں شریک نہیں ہوئے) ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2097
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2094»