کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 2094
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فِيهَا ثُومٌ ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ، وَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ يَدَهُ حَيْثُ يَرَى يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنِّي لَمْ أَرَ أَثَرَ يَدِكَ فِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيهَا رِيحُ الثُّومِ وَمَعِي مَلَكٌ " .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ لایا گیا جس میں لہسن بھی تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نہیں کھایا۔ آپ نے اس کو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھجوا دیا۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ اس جگہ رکھتے تھے، جہاں انہیں یہ نظر آتا تھا، یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان ہے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان نہیں دیکھا تو انہوں نے بھی اسے نہیں کھایا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے آپ کے دست مبارک کا نشان اس میں نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں لہسن کی بو تھی اور میرے ساتھ فرشتہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2094
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الإرواء» (8/ 154 - 155). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم، سماك بن حرب: صدوق لا يرقى حديثه إلى الصحة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2091»