کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بیان کردہ چیزوں کو پکا کر کھانے میں اپنی امت سے ممتاز کیا
حدیث نمبر: 2093
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ ، قَالَتْ : نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ الْبُقُولِ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : " كُلُوا فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي " .
سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا جس میں یہ سبزیاں بھی تھیں، تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے یہ اندیشہ ہے، (اسے کھا کر) میں اپنے ساتھی (فرشتے) کو اذیت پہنچاؤں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2093
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (2784). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن في الشواهد، أبو يزيد الراوي عن أم أيوب: هو المكي حليف بني زهرة، لم يرو عنه سوى ابنه عبيد الله، وذكره المؤلف في «الثقات»، وقال العجلي: مكي تابعي ثقة، وباقي رجال السند ثقات رجال الشيخين، فهو يتقوى بالحديث السابق، سفيان: هو ابن عيينة،
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2090»