کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ ان چیزوں کو پکانے کے بعد کھانے والے پر جماعت میں آنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے وہ انہیں کھائے
حدیث نمبر: 2092
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِطَعَامٍ مَعَ خُضَرٍ ، فِيهِ بَصَلٌ أَوْ كُرَّاثٌ ، فَلَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ " قَالَ : لَمْ أَرْ أَثَرَكَ فِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْتَحْيِي مِنْ مَلائِكَةِ اللَّهِ وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ " .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کچھ کھانا واپس بھیجا جس میں کچھ سبزیاں تھیں جس میں پیاز اور گندنا بھی تھا۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے (اس کو) کھانے کا نشان نہیں دیکھا تو انہوں نے خود اس کو کھانے سے انکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم اس کو کیوں نہیں کھاتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے اس میں آپ کے کھانے کا نشان نظر نہیں آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اللہ کے فرشتوں سے حیا آتی ہے۔ ویسے یہ حرام نہیں ہے۔