کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ بارش اور سردی کی صورت میں، اگر وہ الگ الگ ہوں اور ایک ساتھ نہ ہوں، تو جماعتوں میں شرکت نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 2080
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ ، وَقَالَ لأَصْحَابِهِ : صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ أَوِ الْبَارِدَةِ ، وَيَأْمُرُ أَصْحَابَهُ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں: ایک سرد رات میں انہوں نے ضجنان کے مقام پر اذان دی اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا: تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مؤذن کو یہ ہدایت کرتے تھے، وہ بارش والی رات میں، یا سرد رات میں اذان دے اور آپ اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کرتے تھے، تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2080
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر الحديث (2074). تنبيه!! رقم (2074) = (2077) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2077»