کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - بارش کی موجودگی میں گھروں میں نماز پڑھنے کے حکم کا ذکر، چاہے وہ نقصان دہ نہ ہو
حدیث نمبر: 2079
أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصَابَنَا مَطَرٌ لَمْ يَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے زمانہ میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہمیں بارش نے آ لیا وہ اتنی بارش تھی، جس سے ہمارے جوتے کے نیچے والا حصہ بھی گیلا نہیں ہوا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2079
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 341 - 342). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وخالد الأول: هو خالد بن عبد الله الواسطي، والثاني: هو خالد بن مهران الحذاء، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجرمي، وأبو المليح: هو أبو المليح بن أسامة بن عمير الهذلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2076»