کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - آٹھویں عذر کا ذکر جو نقصان دہ بارش کا ہونا ہے
حدیث نمبر: 2078
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، وَقَالَ : أَلا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بُرْدٍ وَمَطَرٍ ، يَقُولُ : " أَلا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لئے اذان دی اور یہ کہا: ” خبردار اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو “ پھر انہوں نے یہ بات بتائی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو یہ حکم دیتے تھے، جب رات ٹھنڈی یا بارش والی ہو، تو وہ یہ کہے خبردار اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2078
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق نحوه، وهو مكرر الذي قبله، وما بعده بحديث. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2075»