کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - چھٹے عذر کا ذکر جو انسان کا اپنی جان اور مال کے بارے میں خوف ہے جب وہ مسجد کی طرف جاتا ہے
حدیث نمبر: 2075
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، أَتَى سُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، وَإِذَا كَانَ الأَمْطَارُ ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي ، فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَفْعَلُ " . قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ " قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ . قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ .
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ ان کا تعلق انصار سے تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری نگاہ کمزور ہو چکی ہے۔ میں اپنی قوم کی امامت کرتا ہوں جب بارش آتی ہے نشیبی علاقے میں پانی بھر جاتا ہے، جو میرے اور ان لوگوں کے درمیان ہے، تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا، تاکہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ اس لیئے میں یہ چاہتا ہوں، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ تشریف لائیں میرے گھر میں نماز ادا کریں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسا کروں گا۔ سیدنا عتبان بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گھر میں داخل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہیں ہوئے۔ آپ نے دریافت کیا: تم اپنے گھر میں کہاں یہ چاہتے ہو میں وہاں نماز ادا کروں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے آپ نے وہاں تکبیر کہی۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ کو خزیرہ کھانے کے لیئے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیئے تیار کیا تھا۔