کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2073
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حدثاه ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا يَقُمْ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ وَهُوَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ : الْغَائِطُ ، وَالْبَوْلُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز کے لیے کھڑا نہ ہو، اس کا کھانا آ چکا ہو یا جب وہ دو خبیث چیزوں پاخانہ یا پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2073
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (81): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، القاسم بن محمد: هو القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق، وعبد الله بن محمد: هو عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، المعروف بابن أبي عتيق.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2070»
حدیث نمبر: 2074
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ الْمَدِينِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ عَائِشَةَ وَبَيْنَ بَعْضِ بَنِي أَخِيهَا شَيْءٌ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا جَلَسَ ، جِيءَ بِالطَّعَامِ ، فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَتْ لَهُ : اجْلِسْ غُدَرُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمَرْءُ مَزْجُورٌ عَنِ الصَّلاةِ عِنْدَ وُجُودِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ ، وَالْعِلَّةُ الْمُضْمَرَةُ فِي هَذَا الزَّجْرِ هِيَ أَنْ يَسْتَعْجِلَهُ أَحَدُهُمَا حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ لَهُ أَدَاءُ الصَّلاةِ عَلَى حَسْبِ مَا يَجِبُ مِنْ أَجْلِهِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَصْرِيحُ الْخِطَابِ : " وَلا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ " ، وَلَمْ يَقُلْ وَلا هُوَ يَجِدُ الأَخْبَثَيْنِ ، وَالْجَمْعُ بَيْنَ الأَخْبَثَيْنِ قُصِدَ بِهِ وُجُودُهُمَا مَعًا . وَانْفِرَادُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لا اجْتِمَاعُهُمَا دُونَ الانْفِرَادِ . أَبُو حَزْرَةَ : يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ .
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ان کے کسی بھانجے کے درمیان کوئی ناراضگی تھی۔ وہ بھانجے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جب وہ بیٹھے تو کھانا آ گیا وہ اٹھ کر مسجد کی طرف جانے لگے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: او نالائق بیٹھے رہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” کوئی بھی شخص کھانے کی موجودگی میں نماز ادا نہ کرے اور اس وقت نماز ادا نہ کرے جب وہ دو خبیث چیزوں یعنی پیشاب اور پاخانے کو روکے ہوئے ہو۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ جب اسے پیشاب یا پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو۔ تو اس وقت اسے نماز ادا نہیں کرنی چاہئے۔ اس ممانعت میں پوشیدہ علت یہ ہے کہ اگر آدمی کو ان دونوں کے کرنے کی ضرورت درپیش ہو، تو آدمی صحیح طریقے سے نماز ادا نہیں کر سکے گا۔ اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ روایت کے الفاظ میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آدمی دو خبیث چیزوں کو روکنے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی کہ وہ دو خبیث چیزوں کو محسوس نہ کر رہا ہو۔ اور یہاں دو خبیث چیزوں کو جمع کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں کا وجود ایک ساتھ پایا جائے یا ان دونوں میں سے کوئی ایک پایا جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ جب یہ دونوں اکٹھے ہوں تو یہ حکم رہے گا اور جب کوئی ایک ہو، تو یہ حکم نہیں رہے گا۔ ابوجزره نامی راوی کا نام یعقوب بن مجاہد ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2074
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط الحسن بن سهل الجعفري: روى عنه الحسن بن سفيان وأبو زرعة وغيرهما، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 177، وأورده ابن أبي حاتم 3/ 17، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين غير أبي حزرة، فإنه من رجال مسلم وحده.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2071»