کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - چوتھے عذر کا ذکر جو ضرورت سے زیادہ موٹاپا ہے جو آدمی کو جماعتوں میں شرکت سے روکتا ہے
حدیث نمبر: 2070
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَكَانَ ضَخْمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ الصَّلاةَ مَعَكَ ، فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فِيهِ فَأَقْتَدِيَ بِكَ . فَصَنَعَ الرَّجُلُ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ ، فَبَسَطَ لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ : فَقَالَ فُلانُ بْنُ الْجَارُودِ ، لأَنَسٍ : " أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : " مَا رَأَيْتُهُ صَلاهَا غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے جو خوب بھاری بھرکم تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے عرض کی: میں آپ کی اقتداء میں نماز کے لیئے حاضر ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا اگر آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور وہاں نماز ادا کریں، تو میں آپ کی پیروی کروں گا (یعنی اس جگہ نماز ادا کر لیا کروں گا) پھر ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے کھانا تیار کیا، اور آپ کو اپنے گھر میں بلوایا۔ انہوں نے اپنی چٹائی کا کنارہ آپ کے لیئے بچھایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعات نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کرتے تھے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔