کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - تیسرے عذر کا ذکر جو بھول ہے جو بعض حالات میں پیش آتی ہے
حدیث نمبر: 2069
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ ، وَقَالَ لِبِلالٍ : " اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ " . فَصَلَّى بِلالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الصُّبْحُ اسْتَسْنَدَ بِلالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ يُوَاجِهُ الْفَجْرَ ، فَغَلَبَتْ بِلالا عَيْنَاهُ ، وَهُوَ مُسْتَسْنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا بِلالٌ ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا ، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَيْ بِلالُ " . فَقَالَ بِلالٌ : أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اقْتَادُوا رَوَاحِلَكُمْ " . ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ ، وَقَالَ : " مَنْ نَسِيَ الصَّلاةَ أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ : أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " . وَقَالَ يُونُسُ : وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا : لِلذِّكْرَى . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ ، وَقَالَ فِيهِ : خَيْبَرُ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ خَيْبَرَ ، إِنَّمَا أَسْلَمَ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ ، وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، فَإِنْ صَحَّ ذِكْرُ خَيْبَرَ فِي الْخَبَرِ فَقَدْ سَمِعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ صَحَابِيٍّ غَيْرِهِ ، فَأَرْسَلَهُ كَمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الصَّحَابَةُ كَثِيرًا ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ حُنَيْنَ لا خَيْبَرَ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ شَهِدَهَا وَشُهُودُهُ الْقِصَّةَ الَّتِي حَكَاهَا شُهُودُ صَحِيحٍ ، وَالنَّفْسُ إِلَى أَنَّهُ حُنَيْنٌ أَمِيلُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو آپ رات بھر چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ کو نیند آنے لگی، تو آپ نے پڑاؤ کر لیا۔ آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا ہمارے لئے رات کا دھیان رکھنا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جو مقدر میں تھا وہ نماز ادا کرتے رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سو گئے۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی اور صبح صادق والی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی بھی آنکھ لگ گئی۔ وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی شخص بیدار نہیں ہوا، یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: اے بلال! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے والد آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ کو نیند عطا کی تھی۔ اس نے مجھے بھی نیند کا شکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی سواریوں کو لے کر چل پڑو (کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے، تو جب وہ (نماز) اسے یاد آئے، تو وہ اسے ادا کر لے۔ “ کیونکہاللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کرو۔ “ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب اس لفظ کو یوں تلاوت کرتے تھے: للذکری۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ خیبر کا واقعہ ہے حالانکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اور مدینہ منورہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں موجود تھے۔ اور مدینہ منورہ کے نگران سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اگر اس روایت میں خیبر کا تذکرہ درست ہو، تو پھر یہ ہو سکتا ہے کہ ابوہریرہ نے کسی دوسرے صحابی سے یہ روایت سنی ہو اور اسے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کر دیا ہو۔ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر اس طرح کر دیا کرتے تھے۔ اور اگر اس سے مراد غزوہ حنین ہی ہو غزوہ خیبر مراد نہ ہو، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں شریک ہوئے ہیں۔ اور ان کے اس میں شریک ہونے کا واقعہ اور وہ واقعہ جو انہوں نے بیان کیا ہے یہ مستند طور پر ثابت ہے اور ذہن یہی کہتا ہے کہ یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہو گا۔