کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اپنے عشاء کے بارے میں جلدی نہ کرو" سے مراد ہے جب کھانا آدمی کے سامنے پیش کیا جائے
حدیث نمبر: 2067
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَرِيجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَبَيَّنَ لَهُ اللَّيْلُ ، فَكَانَ أَحْيَانًا يُقَدِّمُ عَشَاءَهُ وَهُوَ صَائِمٌ وَالْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ ، ثُمَّ يُقِيمُ وَهُوَ يَسْمَعُ ، فَلا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ وَلا يُعَجِّلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ ، وَيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ " .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا جب سورج غروب ہو جاتا اور رات ہو جاتی، تو بعض اوقات وہ کھانا پہلے کھا لیتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا حالانکہ اس وقت مؤذن اذان دے رہا ہوتا تھا۔ وہ اقامت بھی کہہ دیتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کو سن رہے ہوتے تھے لیکن وہ اپنے کھانے کو ترک نہیں کرتے تھے اور کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ کھانا کھا لیتے تھے، تو تشریف لے جا کر نماز ادا کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جب کھانا تمہارے سامنے رکھ دیا جائے، تو تم کھانا کھاتے ہوئے جلد بازی نہ کرو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2067
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (673)، م (2/ 78). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، وإسناده جيد، محمد بن بكر: هو البرساني، وثقه ابن معين وأبو داود والعجلي، وقال أبو حاتم: شيخ محله الصدق، وقال النسائي في كتاب المحاربة من سننه: ليس بالقوي، ليس له في البخاري سوى حديث واحد في كتاب المغازي، وروى له مسلم والباقون، وباقي السند على شرط الشيخين. استدراك على «طبعة المؤسسة» تكرر رقم الحديث مرتين هكذا: 2067 - 2067 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ... - مدخل بيانات الشاملة -
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2064»