کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم واجب ہے، مستحب نہیں
حدیث نمبر: 2064
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِتْيَانِ الْجَمَاعَاتِ أَمْرُ حَتْمٍ لا نَدْبٍ ، إِذْ لَوْ كَانَ الْقَصْدُ فِي قَوْلِهِ : " فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ " ، يُرِيدُ بِهِ فِي الْفَضْلِ لَكَانَ الْمَعْذُورُ إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ كَانَ لَهُ فَضْلُ الْجَمَاعَةِ ، فَلَمَّا اسْتَحَالَ هَذَا ، وَبَطَلَ ثَبَتَ أَنَّ الأَمْرَ بِإِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ أَمْرُ إِيجَابٍ لا نَدْبٍ . وَأَمَّا الْعُذْرُ الَّذِي يَكُونُ الْمُتَخَلِّفُ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَاتِ بِهِ مَعْذُورًا ، فَقَدْ تَتَبَّعْتُهُ فِي السُّنَنِ كُلِّهَا فَوَجَدْتُهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْعُذْرَ عَشْرَةُ أَشْيَاءَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اذان کو سنتا ہے اور اس کا جواب نہیں دیتا (یعنی باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوتا) تو اس کی نماز نہیں ہوتی البتہ عذر کا حکم مختلف ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ رضی اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جماعت میں شرکت کا حکم دینا ایک لازمی حکم ہے استحباب کے طور پر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فرمان ” اس کی نماز نہیں ہوتی البتہ اس شخص کا حکم مختلف ہے جسے عذر لاحق ہو “ اگر اس سے مقصود یہ ہوتا کہ اس میں فضیلت پائی جاتی ہے تو معذور شخص جب تنہا نماز ادا کرتا۔ تو اسے جماعت کی فضیلت حاصل ہو جاتی۔ تو جب یہ بات ناممکن ہے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ جماعت کے لیے آنے کا حکم لازم قرار دینے کے طور پر ہے۔ استحباب کے طور پر نہیں ہے۔ جہاں تک اس عذر کا تعلق ہے جس کی وجہ سے آدمی جماعت میں شریک ہونے کے حوالے سے معذور شمار ہوتا ہے تو میں نے اس بارے میں تمام احادیث کی تحقیق کی ہے تو میں نے یہ بات پائی ہے کہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ عذر دس مختلف چیزیں ہو سکتی ہیں۔