کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "صلاة الفذ" سے ہمارے بیان کردہ دونوں خبروں میں عمومی لفظ سے خصوصی مراد ہے
حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، فَإِنْ صَلاهُ بِأَرْضِ قَيٍّ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ صَلاتُهُ بِخَمْسِينَ دَرَجَةً " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے تنہا نماز ادا کرنے پر پچیس (25) درجے فضیلت رکھتا ہے اور اگر وہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر نماز ادا کرتا ہے، رکوع اور سجود مکمل ادا کرتا ہے، تو اس کی نماز پچاس درجے تک پہنچ جاتی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2055
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (569): خ الشطر الأول منه، ومض (1746). تنبيه!! رقم (1746) = (1749) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، وهو مكرر (1749).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2053»