کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - جماعت کی نماز کی فضیلت کا ذکر کہ یہ تنہا نماز سے پچیس درجے زیادہ ہے
حدیث نمبر: 2051
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ صَلاةِ الْجَمِيعِ عَلَى صَلاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ بِعَدَدٍ مَحْصُورٍ مَعْلُومٍ ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ ، وَلَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ هَذَا أَنَّهُ لا يَكُونُ لِلْمُصَلِّي مِنَ الأَجْرِ بِصَلاتِهِ أَكْثَرُ مِمَّا وُصِفَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” باجماعت نماز ادا کرنا آدمی کے تنہا نماز ادا کرنے پر پچیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کسی متعین محدود تعداد کے ہمراہ کرتے ہیں لیکن اس عدد کے ذکر کرنے سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کے علاوہ عدد کی نفی کر دی جائے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ مراد نہیں ہے کہ نمازی کو اپنی نماز میں اس سے زیادہ اجر نہیں ملتا جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2051
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2041). تنبيه!! رقم (2041) = (2043) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السري – وإن كان صاحب أوهام – قد توبع عليه، وباقي السند ثقات رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2049»