کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ نماز کے لیے آنے والوں کے آثار لکھنے کا مطلب درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی ہے
حدیث نمبر: 2043
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدِ بْنِ مُسَرْبَلِ بْنِ مُغَرْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَصَلاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا اس کا اپنے گھر میں نماز ادا کرنے یا اس کے بازار میں نماز ادا کرنے پر پچیس (25) درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے، جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد میں آئے اس کا ارادہ صرف نماز ادا کرنے کا ہو، تو وہ شخص جو بھی قدم اٹھاتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس کے درجے کو بلند کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کے گناہ کو معاف کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص مسجد میں داخل ہو جاتا ہے، تو جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے، تو وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔ جب تک وہ نماز کی وجہ سے مسجد میں رہتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2043
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (568): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، أبو معاوية: هو محمد بن خازم، والأعمش: سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمان.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2041»