کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص مساجد میں جتنا دور سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے بنسبت قریب آنے والے کے، کیونکہ اللہ جل وعلا مساجد میں نماز کے لیے آنے والوں کے آثار لکھتا ہے
حدیث نمبر: 2042
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرَدْنَا النُّقْلَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَالْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ خَالِيَةٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانَا فِي دَارِنَا فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ النُّقْلَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعُدَ عَلَيْنَا الْمَسْجِدُ وَالْبِقَاعُ حَوْلَهُ خَالِيَةٌ . فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، " دِيَارَكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " . قَالَ : فَمَا وَدِدْنَا أَنَّا بِحَضْرَةِ الْمَسْجِدِ لَمَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ ہم نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا کیونکہ مسجد کے اردگرد کچھ جگہ خالی ہوئی تھی۔ اس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محلے میں تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا: اے بنو سلمہ! مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے، تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم مسجد سے خاصے دور ہیں اور مسجد کے آس پاس کی جگہ خالی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنوسلمہ! تم اپنے علاقے میں رہو تم اپنے علاقے میں رہو تمہارے قدم نوٹ کئے جائیں گے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر ہم نے یہ آرزو نہیں کی، ہم مسجد کے قریب رہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2042
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - (2/ 131). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي نضرة، وهو المنذر بن مالك بن قطعة العبدي، فإنه من رجال مسلم وحده، والجريري – وهو سعيد بن إياس – وقد اختلط، ورواية عبد الله – وهو ابن المبارك – عنه بعد الاختلاط، لكن رواه عنه شعبة وعبد الوارث، وقد سمعا منه قبل أن يختلط.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2040»