کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں یہ دیا
حدیث نمبر: 2041
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لا أَعْلَمُ رَجُلا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ أَبْعَدَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، قَالَ : قُلْتُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ ، أَوِ الرَّمْضَاءِ ؟ فَقَالَ : فَنَمَا الْحَدِيثُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِذَا أَقْبَلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ أَجْمَعَ ، أَنْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ " .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک ایسا شخص تھا میرے علم کے مطابق قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے والوں میں سے اور کسی شخص کا گھر مسجد سے اس شخص کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس کو کہا: تم ایک گدھا خرید لو جس پر سوار ہو کر تم تاریک رات میں، یا گرمی کے موسم میں آیا کرو تو یہ مناسب ہو گا) راوی کہتے ہیں: یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی۔ آپ نے اس شخص سے اس بارے میں دریافت کیا: تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں یہ چاہتا ہوں، جب میں مسجد کی طرف آؤں، تو میرا آنا اور جب میں واپس جاؤں، تو میرا واپس جانا نوٹ کیا جائے۔ (یعنی اس کا اجر و ثواب مجھے ملے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ یہ ساری چیز تمہیں عطا کرے گا تم نے جو ثواب کی امید رکھی ہے، یہ سب اجر و ثواباللہ تعالیٰ تمہیں عطا کرے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2041
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2039»