کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کو جو اپنے گھر سے مسجد دور ہونے کی وجہ سے زیادہ فضیلت دیتا ہے بنسبت اس کے جس کا گھر قریب ہو
حدیث نمبر: 2040
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ يَشْهَدُ الصَّلاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْعَدَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ ، فَقِيلَ : لَوِ ابْتَعْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ ، أَوِ الظَّلْمَاءِ ، فَقَالَ : مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي بِلِزْقِ الْمَسْجِدِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ ، أَوْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ " .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص تھا میرے علم کے مطابق اہل مدینہ میں سے، قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے والوں میں سے، جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں شامل ہوتے تھے۔ ان میں سے اس شخص سے زیادہ کسی اور کا گھر مسجد سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اسے یہ کہا: گیا اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر تم سوار ہو کر سردی اور گرمی کے موسم میں (مسجد) آیا کرو (تو یہ مناسب ہو گا) اس نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، میرا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہو۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ یہ سب تمہیں عطا کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) جس ثواب کی تم نے امید رکھی ہےاللہ تعالیٰ وہ تمہیں عطا کرے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2040
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (566). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، التميمي: هو سليمان بن طرخان، وأبو عثمان: هو عبد الرحمن بن مل النهدي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2038»