کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے لیے جو اپنے گھر سے نکل کر نماز کے لیے جاتا ہے اسے نمازیوں میں لکھتا ہے جب تک وہ اپنے گھر واپس نہ آئے
حدیث نمبر: 2038
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْقَاعِدُ عَلَى الصَّلاةِ كَالْقَانِتِ ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عُشَّانَةَ اسْمُهُ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ .
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” نماز کا بیٹھ کر انتظار کرنے والا شخص نماز پڑھنے والے کی مانند ہے اور نمازی جب اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے گھر واپس آنے تک اس کے لیئے ثواب نوٹ کیا جاتا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعشانہ نامی راوی کا نام حیی بن عبداللہ مغافری ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2038
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 125). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، حرملة بن يحيى: روى له مسلم، وباقي رجاله رجال الشيخين غير أبي عشانة، وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2036»