کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی عشاء کی آخری نماز سے پہلے ایسی بات کر سکتا ہے جو اس کے آخرت کے لیے مفید ہو اور اس کے لیے نماز مؤخر کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2035
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَكَلَّمَهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ هُوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نماز قائم ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اس نے پست آواز میں آپ کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کی۔ یہ رات کے وقت کی بات ہے (یہ بات چیت اتنی طویل ہو گئی)، حاضرین میں سے بعض لوگ سو گئے۔