کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ عشاء کی آخری نماز کے بعد بات چیت سے منع کا مقصد علم کی باتیں نہیں
حدیث نمبر: 2033
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ ، وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ قِيَامِهِ جَاءَ ، فَقَالَ: دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلاءِ ، ثُمّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، فَجَاءَ ، فَصَلَّى لَنَا ، ثُمَّ خَطَبَنَا فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا ، وَرَقَدُوا ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاةٍ مُذِ انْتَظَرْتُمُ الصَّلاةَ " . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " إِنَّ الْقَوْمَ لا يَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ " .
قرہ بن خالد بیان کرتے ہیں: ہم حسن بصری کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ کافی دیر تک ہمارے پاس نہیں آئے، یہاں تک کہ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب آیا، تو وہ اس وقت تشریف لے آئے۔ انہوں نے فرمایا: ہمارے ان پڑوسیوں نے بلا لیا تھا، پھر انہوں نے یہ بات بتائی۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے۔ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ نصف رات ہو گئی پھر آپ تشریف لائے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ” لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے تھے نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔ “ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو لوگ بھلائی کا جب تک انتظار کرتے رہتے ہیں وہ بھلائی کی حالت میں شمار ہوتے ہیں۔