کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو عشاء کی آخری نماز کے بعد غیر ضروری باتیں کرنے سے منع کرتی ہے
حدیث نمبر: 2030
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، وَرَجُلا آخَرَ مِنَ الأَنْصَارِ ، تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةً حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ ، فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ ، وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَصَاهُ ، فَأَضَاءَتْ عَصًا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا ، حَتَّى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ بِالآخَرِ عَصَاهُ ، فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى بَلَغَ أَهْلَهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک اور انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات گئے تک بیٹھے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا وہ رات انتہائی تاریک تھی۔ یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر واپس جانے لگے، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ ان میں سے ایک کی چھڑی ان کے لئے روشنی کرتی رہی، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات اس کی روشنی میں چلتے رہے۔ جب راستے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے، تو دوسرے صاحب کی چھڑی بھی روشن ہو گئی اور ان میں سے ہر ایک اپنی چھڑی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر تک پہنچ گیا۔
حدیث نمبر: 2031
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " جَدَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ صَلاةِ الْعَتَمَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے عشاء کی نماز کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند قرار دیا ہے۔