کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی نماز کے بعد اللہ جل وعلا سے اپنے دین اور دنیا کی اصلاح مانگے
حدیث نمبر: 2026
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : وَأَنَا أَسْمَعُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، أَنَّا نَجِدُ فِي الْكِتَابِ أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةَ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ ، أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلاتِهِ .
عطاء بن ابومروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، کعب نے (شاید اس سے مراد کعب الاحبار ہیں) اس ذات کی قسم اٹھائی جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لیئے دریا کو چیر دیا اور یہ بات بیان کی، ہم نے کتاب (یعنی تورات) میں یہ بات پائی ہے، اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو یہ کلمات پڑھتے تھے: ” اے اللہ! تو میرے لئے میرے دین کو ٹھیک کر دے جس کو تو نے میرے انجام کا ذریعہ بنایا ہے اور میرے لیئے میری دنیا کو ٹھیک کر دے جس میں، تو نے میری زندگی رکھی ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی تیرے انتقام لینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری ذات کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: کعب الاحبار نے مجھے یہ بات بتائی، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔