کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی اپنی نمازوں کے بعد اللہ جل وعلا سے کس چیز سے پناہ مانگتا ہے
حدیث نمبر: 2024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، قَالا : كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمَكْتَبُ الْغِلْمَانَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ بَعْدَ كُلِّ صَلاةٍ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
عبدالملک بن عمیر مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو ان کلمات کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح (مدرسے میں) استاد شاگردوں کو تعلیم دیتا ہے وہ یہ فرماتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ ” اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں مجھے سٹھیا جانے والی عمر تک لوٹا دیا جائے اور میں دنیا کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2024
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3937). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد ابن عثمان العجلي، فهو من رجال البخاري، وشيبان: هو ابن عبد الرحمن النحوي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2022»