کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا فرض نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر پر اکتفا کرنے والے کے لیے لکھتا ہے
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهِمَا عَبْدٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَهُمَا يَسِيرً وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ : يُسَبِّحُ اللَّهَ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرُ كُلُّ صَلاةٍ عَشْرًا ، وَيُحَمِّدُهُ عَشْرًا ، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ . وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ يُسَبِّحُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَيُحَمِّدُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ ؟ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ . قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ لا يُحْصِيهَا ؟ قَالَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ ، وَهُوَ فِي صَلاتِهِ ، فَيَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ " . قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : كَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ ، قَالَ لَنَا أَيُّوبُ ، قَدْ قَدِمَ صَاحِبُ حَدِيثِ التَّسْبِيحِ ، فَاذْهَبُوا فَاسْمَعُوهُ مِنْهُ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” دو خصوصیات ایسی ہیں، جن کو جو بھی بندہ اختیار کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔ ایک یہ، کوئی شخص نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمد اللہ دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھے تو یہ (ایک دن اور رات میں) زبان سے پڑھنے کے حساب سے ایک سو پچاس ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے (دوسری عادت یہ ہے)، جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے، تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمدالله چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھے تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون شخص روزانہ دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں شمار کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کوئی شخص ان دونوں پر کیوں عمل نہیں کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور وہ آدمی اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، تو شیطان کہتا ہے تم فلاں چیز کو یاد کرو فلاں چیز کو یاد کرو اور جب آدمی سونے لگتا ہے اس وقت شیطان آدمی کے پاس آتا ہے اور اسے سلا دیتا ہے۔ حماد بن زید نے یہ بات بیان کی ہے ایوب نے عطاء بن سائب کے حوالے سے یہ حدیث ہمیں سنائی تھی۔ جب عطاء بصرہ آئے تو ایوب نے ہمیں کہا: کہ تسبیح والی اس حدیث کو نقل کرنے والے صاحب تشریف لے آئے ہیں۔ تم لوگ جاؤ اور ان سے اسے سن لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2018
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2009). تنبيه!! رقم (2009) = (2012) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، حماد بن زيد روى عن عطاء بن السائب قبل الاختلاط.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2015»