کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ تسبیح، تحمید اور تکبیر کو آخر میں اللہ کی وحدانیت کی شہادت کے ساتھ ختم کرنا چاہیے تاکہ سو کی تعداد مکمل ہو
حدیث نمبر: 2015
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالأَجْرِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ : " أَلا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ ، وَلا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ ، إِلا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ ؟ " . قَالَ : بَلَى رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تُكَبِّرُ اللَّهَ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُحَمِّدُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُسَبِّحُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتَخْتِمُهَا بِلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مال دار لوگ اجر لے گئے ہیں وہ لوگ اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی اموال ہوتے ہیں، جنہیں وہ صدقہ کر دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں، تم ان کی مدد سے اس شخص تک پہنچ جاؤ گے، جو تم سے آگے ہے اور تم سے پیچھے والا شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا۔ ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے اس عمل کی مانند عمل کو اختیار کرے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو اور تینتیس مرتبہ الحمداللہ پڑھو اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھو اور یہ کلمہ پڑھ کر اسے ختم کرو۔ ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2015
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1348). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وقد صرح الوليد بالتحديث.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2012»