کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس چیز کا ذکر جو آدمی فرض نمازوں کے بعد کہتا ہے، جس سے وہ سب سے آگے ہوتا ہے اور کوئی اسے پیچھے سے نہیں پکڑ سکتا سوائے اس کے جو اس جیسا کرے
حدیث نمبر: 2014
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ . قَالَ : " أَفَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ ، وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ ، وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ إِلا أَحَدٌ عَمِلَ بِمِثْلِ أَعْمَالِكُمْ ؟ تُسَبِّحُونَ ، وَتُحَمِّدُونَ ، وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غریب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: مال دولت والے لوگ بلند درجات اور قائم رہنے والی نعمتیں حاصل کر گئے کیونکہ وہ اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی اموال ہوتے ہیں جس کی مدد سے وہ حج کر لیتے ہیں اور عمرہ کرتے ہیں جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف نہ کروں، اگر تم اسے اختیار کر لو گے تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے، جو تم سے آگے ہے اور تمہارے پیچھے والا کوئی شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا اور باقی سب لوگوں کے درمیان تم سب سے بہترین ہو گے ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے اس عمل کی مانند کر لے تم لوگ ہر نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان الله، الحمداللہ، اللہ اکبر پڑھا کرو۔