کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف شعبی اور مسیب بن رافع نے وراد سے روایت کی
حدیث نمبر: 2007
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَرَّادًا ، كاتب المغيرة يُحَدِّثُ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَضَى صَلاتَهُ ، فَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لَمَّا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
وراد جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری ہیں وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرتے تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اس کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت کام نہیں آتی ۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2007
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني [تنبيه!! ] هذا الحديث فصله الشيخ الألباني جزئين لوجود إسناد آخر. الجزء الأول: 2004 - َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: ... مِنْكَ الْجَدُّ» وقال عن هذا الجزء: صحيح: ق - انظر ما قبله. الجزء الثاني: [2004/*] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ فِي عَقِبِهِ، قَالَ، ... مِثْلَ ذَلِكَ وقال عن هذا الجزء: لم يحكم الشيخ على هذه المتابعة!. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2004»