کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے بیان کردہ عمل کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2006
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي وَرَّادٌ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاتِهِ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لَمَّا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ : دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، وَمُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ . وَأَنَا قُلْتُ : وَغَيْرُهُ ، لأَنَّ مُجَالِدًا تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ .
وراد بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، آپ مجھے کوئی ایسی چیز تحریر کر کے بھیجیں جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے خط میں لکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہوتے تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمدہ اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) أحمد بن یحییٰ نے ہمیں یہ روایت داؤد بن ابوہند اور مجالد کے حوالے سے امام شعبی کے حوالے سے منقول روایت کے طور پر سنائی تھی۔ لیکن میں نے یہاں سند میں یہ کہا: ہے کہ اور دوسرے صاحب نے (یعنی مجالد کا نام ذکر نہیں کیا ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کتاب ” المجروحین “ میں مجالد سے بری الذمہ ہونے کا اظہار کر چکے ہیں
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2006
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الله بن محمد بن يحيى بن أبي بكير الكرماني: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 365، وقال: مستقيم الحديث، ووثقه الخطيب في تاريخه 10/ 80، ومن فوقه من رجال الشيخين غير داود بن أبي هند، فإنه من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2003»