کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس تہلیل کی کیفیت کا ذکر جو آدمی اپنی نماز کے بعد اپنے رب جل وعلا کی تہلیل کرتا ہے
حدیث نمبر: 2005
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ : أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاتِهِ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
وراد بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو آپ کیا پڑھا کرتے تھے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2005
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1349)، «الصحيحة» (196 / الطبعة الجديدة). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله رجال الشيخين غير مسدد، فإنه من رجال البخاري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2002»