کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز سے سلام دینے کے بعد کیا کہتا ہے
حدیث نمبر: 2000
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَقْعُدُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ إِلا قَدْرَ مَا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، وَمِنْكَ السَّلامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہو سکتی ہے۔ اے جلال اور اکرام والے، تو برکت والا ہے۔ “