کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز سے بائیں جانب انصراف کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 1997
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ جُزْءًا مِنْ نَفْسِهِ ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ إِلا عَنْ يَمِينِهِ ، " فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوئی بھی شخص اپنی ذات کے حوالے سے شیطان کا حصہ نہ رکھے وہ یہ نہ سمجھے، اس پر یہ بات لازم ہے، (وہ نماز پڑھنے کے بعد) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اوقات بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1997
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (957): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1994»