کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ واقعہ کے وقت قنوت کسی کے لیے بھی جائز نہیں
حدیث نمبر: 1987
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ ، حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلانًا وَفُلانًا " ، دَعَا عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ ، أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ، أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں سنا، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ نے یہ پڑھا: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ہر دوسری رکعت میں ہوا تھا، پھر آپ نے یہ دعا مانگی: ” اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت کر “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف دعائے ضرر کی تھی، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی: ” تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہاللہ تعالیٰ انہیں، توبہ کی توفیق دے، یا انہیں عذاب دے بے شک وہ لوگ ظالم ہیں ۔“