کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ سنت صرف ابو ہریرہ نے بیان کی
حدیث نمبر: 1984
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ خُفَافٍ ، قَالَ : رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهِ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلا ، وَذَكْوَانَ " ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَوَقَعَ سَاجِدًا . قَالَ : فَجَعَلَ لَعْنَةَ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ .
حارث بن خفاف غفاری اپنے والد سیدنا خفاف رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران رکوع میں گئے پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا: ” غفار قبیلے کیاللہ تعالیٰ مغفرت کرے اسلم قبیلے کواللہ تعالیٰ سلامت رکھے عصیہ قبیلے “ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اے اللہ! بنولحیان پر لعنت کر اے اللہ! رعل اور ذکوان (قبیلوں) پر لعنت کر۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کفار پر لعنت اسی وجہ سے کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1984
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو –وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي- فإنه حسن الحديث، خفاف: هو ابن إيماء الغفاري، كان أبوه سيد غفار، وكان هو إمام بني غفار وخطيبهم، شهد الحديبية، وبايع بيعة الرضوان، يعد في المدنيين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1981»