کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے اپنی نماز میں ایسی دعا مانگنا جائز ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو
حدیث نمبر: 1979
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ " ثَلاثًا ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي صَلاتِكَ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ ، قَالَ : " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، ثُمَّ قُلْتُ ذَلِكَ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، ثُمَّ قُلْتُ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَخْنُقَهُ ، فَلَوْلا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں “ پھر آپ نے فرمایا: ” میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہوں جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا ابودرداء نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایسی چیز کہتے ہوئے سنا ہے، ہم نے اس طرح کی بات کہتے ہوئے آپ کو پہلے نہیں سنا اور ہم نے دیکھا، آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا انگارہ لے کر میرے پاس آیا تھا تاکہ اسے میرے چہرے پر لگائے، تو میں نے کہا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں وہ پیچھے نہیں ہٹا پھر میں نے یہ بات کہی وہ پھر پیچھے نہیں ہٹا پھر میں نے یہ بات کہی وہ پھر پیچھے نہیں ہٹا تو میں نے یہ ارادہ کیا، میں اس کا گلہ دبا دیتا ہوں اگر میرے بھائی سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح بندھا ہوا ہوتا جس کے ساتھ مدینہ منورہ کے بچے کھیل رہے ہوتے ۔“