کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی جواز کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں ایسی دعا مانگے جو اللہ جل وعلا کی کتاب میں نہ ہو
حدیث نمبر: 1974
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي صَلاتِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ ، وَعَزِيمَةَ الرُّشْدِ ، وَشُكْرَ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ " .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ پڑھا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! میں ایمان پر ثابت قدمی کا ہدایت میں عزیمت کا تیری نعمتوں پر شکر کا تیری اچھے طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تجھ سے سلامتی والے دل کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور میں ہر اس چیز (یعنی گناہ یا کوتاہی کے حوالے) سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہو ۔“