کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ آدمی کا اپنی نماز میں ایسی دعا مانگنا جو قرآن میں نہ ہو، اس کی نماز کو فاسد کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 1973
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَيَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَقَالَ : " عُصَيَّةٌ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . أَبُو مِجْلَزٍ اسْمُهُ لاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عربوں کے کچھ قبائل رعل اور ذکوان کے خلاف دعائے ضرر کرتے رہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عصیہ قبیلے کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ “ ابومجلز نامی راوی کا نام لاحق بن حمید ہے۔