کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی جواز کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں ایسی دعا مانگے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو، چاہے اس میں لوگوں کے ناموں کا ذکر ہو
حدیث نمبر: 1972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةً عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا نَزَلَتْ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز میں قرأت کر کے فارغ ہوتے تو آپ تکبیر کہتے (ہوئے رکوع میں چلے جاتے) پھر آپ اپنے سر کو اٹھاتے اور «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھتے پھر آپ قیام کی حالت میں ہی یہ دعا مانگتے: ” اے اللہ! تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ اور کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر اے اللہ! تو مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی نازل کر دے۔ اے اللہ! لحیان، زعل، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم تک یہ روایت پہنچی ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو ترک کر دیا۔ ” تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہاللہ تعالیٰ انہیں، توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے۔ بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1972
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1296): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، حرملة بن يحيى: من رجال مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1969»