کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں تشہد کے بعد کس چیز سے پناہ مانگتا ہے
حدیث نمبر: 1968
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاةِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكْ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " . قَالَتْ : فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں دجال کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ قرض سے اکثر پناہ مانگتے ہیں۔ (اس کی حکمت کیا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آدمی مقروض ہو، تو وہ بات کرتے ہوئے غلط بیانی کرتا ہے وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1968
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (824): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عمرو بن عثمان وأبوه: روى لهما أبو داود، والنسائي، وابن ماجه، وهما ثقتان، ومن فوقهما من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1965»