کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ ان کے قول "جب تم نے یہ کہا تو تم نے اپنا فرض پورا کر لیا"
حدیث نمبر: 1962
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، بِيَدِ عَلْقَمَةَ ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ فَرَغْتَ مِنْ صَلاتِكَ ، فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ .
حسن بن حرقاسم بن مخیمرہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا (انہوں نے یہ بتایا)، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور انہیں تشہد (کے کلمات) تعلیم دیئے تھے (جو درج ذیل ہیں:) ” تمام زبانی، جسمانی اور مالی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی! آپ پر سلام ہو۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تم (یہ پڑھ کر) فارغ ہو جاؤ گے تو تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ گے اگر تم چاہو تو بیٹھے رہو اور اگر چاہو تو اٹھ جاؤ۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1962
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط غسان بن الربيع –وهو الأزدي الموصلي- قال الدارقطني: ضعيف، وقال مرة: صالح، وقال الذهبي: ليس بحجة في الحديث، وشيخه ابن ثوبان- وهو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان- قال الحافظ في «التقريب»: صدوق يخطئ وتغير بأخرة، قال صاحب «الجوهر النقي» 2/ 175: وبمثل هذا لا تعلل رواية الجماعة الذين جعلوا هذا الكلام متصلاً بالحديث، وعلى تقدير صحة السند الذي روي فيه موقوفاً، فرواية من وقف لا تعلل بها رواية من رفع، لأن الرفع زيادة مقبولة على ما عرف من مذاهب أهل الفقه والأصول، فيحمل على أن ابن مسعود سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم، فرواه كذلك مرة، وأفتى به مرة أخرى، وهذا أولى من جعله من كلامه، إذ فيه تخطئة الجماعة الذين وصلوه، وانظر «نصب الراية» 1/ 424 - 425.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1959»