کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ تشہد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ بھیجنا فرض نہیں
حدیث نمبر: 1961
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَأَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " . قَالَ زُهَيْرٌ : عَقَلْتُ حِينَ كَتَبْتُهُ مِنَ الْحَسَنِ ، فَحَدَّثَنِي مِنْ حِفْظِهِ مِنَ الْحَسَنِ ، بِبَقِيَّتِهِ : " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ زُهَيْرٌ : ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حِفْظِي ، قَالَ : فَإِذَا قُلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ .
قاسم بن مغیرہ بیان کرتے ہیں۔ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور یہ بات بیان کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نماز کے دوران تشہد کے کلمات تعلیم دیتے تھے (جو درج ذیل ہیں:) ” تمام زبانی، جسمانی اور مالی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ “ زہیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میں نے حسن کے حوالے سے جب اس حدیث کو نوٹ کیا تھا تو میں نے یہ بات یاد رکھی تھی، پھر زہیر نے اپنے حافظے کی بنیاد پر حسن کے حوالے سے روایت کے بقیہ الفاظ نقل کئے جو درج ذیل ہیں: ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں سیدنا محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “ زہیر نامی راوی کہتے ہیں: پھر میں نے اپنی یادداشت کی طرف رجوع کیا جس میں روایت کے یہ الفاظ ہیں۔ ” جب تم یہ پڑھ لو گے تو تم اپنی نماز کو مکمل کر لو گے اگر اتنا اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1961
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ بزيادة: «إِذَا قُلْتَ ... »، والصواب أنَّه من قول ابن مسعود - «صحيح أبي داود» (891)، وانظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عبد الرحمن بن عمرو البجلي الحراني: ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 380، وقال أبو زرعة فيما نقله عنه ابن أبي حاتم 5/ 267: شيخ، وقد توبع عليه، ومن فوقه من ثقات رجال الصحيح غير الحسن بن حر، وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1958»