کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان پر صلاۃ بھیجنے کے بارے میں سوال کیا گیا جب ان کا ذکر تشہد میں کیا گیا
حدیث نمبر: 1959
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا السَّلامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلاتِنَا ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَصَمَتَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
امام ابن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق نامی راوی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بارے میں روایت بیان کی تھی جب کوئی شخص نماز کے دوران آپ پر درود بھیجتا ہے۔ سیدنا ابومسعود بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ اس وقت ہم آپ کے پاس موجود تھے۔ اس شخص نے عرض کی: جہاں تک آپ پر سلام بھیجنے کا تعلق ہے اس کا ہمیں پتہ چل گیا ہے، جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ بات پسند کی، اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجنے لگو تو تم یہ پڑھو۔ ” اے اللہ! تو امی نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود نازل کیا، اور تو امی نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی: بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1959
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1956»