کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس صلاۃ کی کیفیت کے بارے میں پوچھا جس کا اللہ جل وعلا نے اپنے رسول پر بھیجنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1958
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . وَالسَّلامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ " .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت سیدنا سعد بن عبادہ کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، تو سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)!اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے، ہم آپ پر درود بھیجیں، تو ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو ” اے اللہ! تو سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا، اور تو سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی: بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔ “ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) سلام کا طریقہ اسی طرح ہے، جس طرح تم جان چکے ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1958
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (901): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين ما خلا محمد بن عبد الله الأنصاري فإنه من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1955»