کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھنے میں کیا کہتے تھے قبل اس کے کہ انہیں تشہد سکھایا جائے
حدیث نمبر: 1955
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ ، السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، السَّلامُ عَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِهِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا أَحَبَّ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز کے دوران) بیٹھتے تھے، تو ہم یہ پڑھتے تھےاللہ تعالیٰ پر ” اس کے بندوں سے پہلے سلام ہو جبرائیل پر سلام ہو سیدنا میکائیل پر سلام ہو اور فلاں پر سلام ہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا: بے شکاللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھتے تو اسے سب سے پہلے یہ پڑھ لینا چاہیئے۔ ” تمام جسمانی اور زبانی اور مالی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہو ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو ۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) جب بندہ یہ کلمات پڑھ لے گا، تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک (سلام) پہنچ جائے گا۔ (اس کے بعد آدمی یہ پڑھے) ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر دعا کے حوالے سے آدمی کو اختیار ہے، جو وہ پسند کرے (وہ دعا مانگ لے)