کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اس بات کے جواز کا ذکر کہ آدمی نماز میں اس تشہد کے علاوہ بھی تشہد پڑھ سکتا ہے جسے ہم نے بیان کیا ہے
حدیث نمبر: 1954
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَكَانَ يَقُولُ : " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، سَلامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ پڑھا کرتے تھے: ” برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ جسمانی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1954
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1951»