کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں ہمارے بیان کردہ کے علاوہ تشہد ادا کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 1952
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، سَلامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے (تشہد کے کلمات یہ ہیں) ” برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ دعائیںاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1952
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (895): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وهو حديث صحيح، كامل بن طلحة الجحدري: لا بأس به كما قال أبو حاتم، وقد توبع، ومن فوقه من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1949»