کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کے بیٹھنے میں کس تشہد کو ادا کرتا ہے
حدیث نمبر: 1950
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، وأبي هاشم ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وأبي الأحوص ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلاةِ ، نَقُولُ : السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : إِذَا قُلْتُهَا أَصَابَتْ كُلَّ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ ، وَنَبِيٍّ مُرْسَلٍ ، وَعَبْدٍ صَالِحٍ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہمیں یہ نہیں پتہ تھا، ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہئے، تو ہم یہ کہا: کرتے تھے سیدنا جبرائیل پر سلام ہو سیدنا میکائیل پر سلام ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو۔ ” تمام زبانی جسمانی اور مالی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اوراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ “ ابووائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ” جب تم یہ کلمات پڑھ لو گے تو ہر مقرب فرشتے ہر مرسل نبی اور ہر نیک بندے تک یہ سلام پہنچ جائے گا (تم یہ بھی پڑھو) ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔“
حدیث نمبر: 1951
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، إِلا أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنُحَمِّدَ رَبَّنَا ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ ، أَوْ قَالَ جَوَامِعَهُ ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا : " إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا أَعْجَبَهُ ، فَلْيَدْعُ بِهِ رَبَّهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الأَمْرُ بِالْجُلُوسِ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ أَمْرُ فَرْضٍ دَلَّ فِعْلُهُ مَعَ تَرْكِ الإِنْكَارِ عَلَى مَنْ خَلْفَهُ عَلَى أَنَّ الْجُلُوسَ الأَوَّلَ نَدْبٌ ، وَبَقِيَ الآخَرُ عَلَى حَالَتِهِ فَرْضًا .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا، ہمیں دو رکعات پڑھنے کے بعد (تشہد کے دوران) کیا پڑھنا چاہئے صرف یہ پتہ تھا، ہمیں تسبیح بیان کرنی چاہیے، تکبیر پڑھنی چاہئے اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنی چاہئے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلائی کو کھولنے والی چیزوں اور بھلائی کے مجموعوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) بھلائی کے بارے میں جامع باتوں کا علم عطا کیا گیا۔ آپ نے ہم سے یہ فرمایا جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو تم یہ پڑھو: ” تمام زبانی، جسمانی اور مالی عباداتاللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پراللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، سیدنا محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) پھر دعا کے بارے میں آدمی کو اختیار ہے وہ جو چاہے اپنے پروردگار سے دعا مانگے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دو رکعات کے بعد بیٹھنے کا حکم ہونا ایک فرض حکم ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل اور اس کے ہمراہ آپ کا اپنے پیچھے موجود لوگوں کا انکار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلا قعدہ مستحب ہے جبکہ دوسرا قعدہ اپنی حالت پر فرض رہے گا۔